تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 15

قَالَ کَلَّا ۚ فَاذۡہَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَکُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
فرمایا ہر گز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، بے شک ہم تمھارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔ En
فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
En
جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ كَلَّا اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ (القصص: 28؍35) پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔
﴿ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں۔ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال كلاَّ}؛ أي: لا يتمكَّنون من قتلِكَ؛ فإنَّا سنجعلُ لكما سلطاناً؛ فلا يصِلون إليكُما [بآياتنا] أنتما ومن اتَّبَعَكما الغالبون، ولهذا لم يتمكَّنْ فرعونُ من قتل موسى مع منابذتِهِ له غايةَ المنابذةِ وتسفيه رأيِهِ وتضليلِهِ وقومه، {فاذهبا بآياتنا}: الدالَّةِ على صدقِكُما وصحَّةِ ما جئتما به، {إنَّا معكم مستمعونَ}: أحفظُكُما وأكلؤُكُما، {فأتِيا فرعونَ فقولا إنَّا رسولُ ربِّ العالمينَ}؛ أي: أرسلنا إليك لِتُؤْمِنَ به وبنا، وتنقادَ لعبادتِهِ وتذعنَ لتوحيدِهِ. {أنْ أرْسِلْ مَعَنا بني إسرائيلَ}: فكُفَّ عنهم عذَابَكَ، وارْفَعْ عنهم يَدَكَ؛ ليَعْبُدوا ربَّهم، ويُقيموا أمر دينِهِم.