ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 15

قَالَ کَلَّا ۚ فَاذۡہَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَکُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
فرمایا ہر گز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، بے شک ہم تمھارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔ En
فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
En
جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ {قَالَ كَلَّا …:} فرمایا، ہر گز ایسا نہیں ہو گا، نہ وہ تمھیں قتل کر سکیں گے، نہ کوئی ایذا پہنچا سکیں گے۔ تمھاری ہارون کو معاون نبی بنانے کی درخواست بھی قبول ہے، اس لیے تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔
➋ {فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ:} ہمت بندھانے کے لیے دو چیزیں عطا فرمائیں، پہلی عصا اور ید بیضا کے معجزے، دوسری اپنی معیت کا وعدہ۔ عام معیت تو کائنات کی ہر چیز کو حاصل ہے، یہاں معیت سے مراد معیت خاصہ ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی فوج کے آ پہنچنے پر فرمایا تھا: «{ كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ [الشعراء: ۶۲] ہر گز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔ اور جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کے لیے کہا تھا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبۃ: ۴۰] غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ {سَمِعَ} اس نے سنا اور {اِسْتَمَعَ} اس نے کان لگا کر سنا۔ { اِنَّا مَعَكُمْ } میں ضمیر {كُمْ} تثنیہ کے لیے استعمال ہوئی ہے، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا: «{ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِيْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى [طٰہٰ: ۴۶] ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15-1اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ تم دونوں جاؤ، میرا پیغام ان کو پہنچاؤ، تمہیں جو اندیشے لاحق ہیں ان سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ آیات سے مراد وہ دلائل ہیں جن سے ہر پیغمبر کو آگاہ کیا جاتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دیئے گئے تھے، جیسے ید بیضا اور عصا۔ 15-2یعنی تم جو کچھ کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا، ہم سن رہے ہونگے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں فریضہ رسالت سونپ کر تمہاری حفاظت سے بےپرواہ نہیں ہوجائیں گے بلکہ نصرت ومعاونت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایسا ہرگز نہیں ہو گا تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم بھی تمہارے ساتھ [11] ہیں، سب کچھ سن رہے ہیں
[11] سیدنا موسیٰؑ کی اللہ سے گزارشات اور ان کی قبولیت:۔
موسیٰؑ کی اس التجا اور ان خطرات کے جواب میں فرمایا: کہ
(1) تمہاری التجا منظور ہے، میں ہارون کو نبوت عطا کر دیتا ہوں اور وہ تمہارے ساتھ رہے گا اور اس کام میں تمہارا مددگار ہو گا۔
(2) تمہیں جو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ ڈالیں تو اس بات کو دل سے نکال دو۔ وہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکیں گے۔ اور اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ تمہیں دو ایسے معجزات دے کر بھیجا جا رہا ہے جو اس بات کا یقینی ثبوت پیش کرتے ہیں کہ تم فی الواقع اللہ کے رسول ہو اور دوسری وجہ یہ ہے کہ تم دونوں کے سات تیسرا میں بھی ہوں۔ میں تمہاری سب باتیں سنتا ہوں اور تمہاری پوری پوری نگہداشت بھی کروں گا۔
اللہ کی معیت کی مثال اور معتزلہ اور جہمیہ کا رد:۔
اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے جہمیہ نے استدلال کیا کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور جن آیات میں اللہ کے مستوی علی العرش ہونے کا ذکر تھا ان آیات کی تاویل کر ڈالی۔ حالانکہ جن آیات میں اللہ کی معیت یا اس کے قریب ہونے کا ذکر ہے تو ایسی معیت یا قربت ذات کے لحاظ سے نہیں بلکہ صفات کے لحاظ سے ہے۔ اس کی ایک معمولی سی مثالی یوں سمجھئے کہ سورج اور چاند اللہ کی بے جان اور ادنیٰ سے مخلوق ہے۔ جو مسافر کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ چلنے والا جہاں تک چلے وہ ساتھ ساتھ ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ آسمان پر ہیں اور انسان لاکھوں اور کروڑوں میل دور ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ مستوی علی العرش ہونے کے باوجود اپنے علم، اپنی قدرت اور مدد کے لحاظ سے ہر انسان سے بالکل نزدیک ہے اور اس کی صحیح کیفیت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ كَلَّا اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ (القصص: 28؍35) پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔
﴿ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں۔ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال كلاَّ}؛ أي: لا يتمكَّنون من قتلِكَ؛ فإنَّا سنجعلُ لكما سلطاناً؛ فلا يصِلون إليكُما [بآياتنا] أنتما ومن اتَّبَعَكما الغالبون، ولهذا لم يتمكَّنْ فرعونُ من قتل موسى مع منابذتِهِ له غايةَ المنابذةِ وتسفيه رأيِهِ وتضليلِهِ وقومه، {فاذهبا بآياتنا}: الدالَّةِ على صدقِكُما وصحَّةِ ما جئتما به، {إنَّا معكم مستمعونَ}: أحفظُكُما وأكلؤُكُما، {فأتِيا فرعونَ فقولا إنَّا رسولُ ربِّ العالمينَ}؛ أي: أرسلنا إليك لِتُؤْمِنَ به وبنا، وتنقادَ لعبادتِهِ وتذعنَ لتوحيدِهِ. {أنْ أرْسِلْ مَعَنا بني إسرائيلَ}: فكُفَّ عنهم عذَابَكَ، وارْفَعْ عنهم يَدَكَ؛ ليَعْبُدوا ربَّهم، ويُقيموا أمر دينِهِم.