تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 5

وَ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ اکۡتَتَبَہَا فَہِیَ تُمۡلٰی عَلَیۡہِ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۵﴾
اور انھوں نے کہایہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ En
اور کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں
En
اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھا رکھے ہیں بس وہی صبح وشام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ﴿اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْ٘نَ اكْتَتَبَهَا یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اورانھیں ہر شخص آگے بیان کر دیتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ ﴿فَ٘هِیَ تُ٘مْ٘لٰى عَلَیْهِ بُؔكْرَةً وَّاَصِیْلًا پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں:
(۱) ان کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں۔
(۲) قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔
(۳) اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کر سکتی ہے؟
(۴) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن جملة أقاويلهم فيه أنْ قالوا: هذا الذي جاء به محمدٌ {أساطيرُ الأولينَ اكْتَتَبَها}؛ أي: هذا قَصَص الأولين وأساطيرُهم، التي تتلقَّاها الأفواه وينقلُها كلُّ أحدٍ، استَنْسَخَها محمدٌ؛ {فهِيَ تُملى عليه بُكرةً وأصيلاً}: وهذا القول منهم فيه عدةُ عظائم:

منها: رميُهم الرسولَ الذي هو أبرُّ الناس وأصدقُهم بالكذب والجرأة العظيمة.

ومنها: إخبارُهم عن هذا القرآن الذي هو أصدقُ الكلام وأعظمُه وأجلُّه بأنه كذبٌ وافتراءٌ.

ومنها: أنَّ في ضمن ذلك أنَّهم قادرون أن يأتوا بمثلِهِ، وأن يضاهئ المخلوقُ الناقصُ من كلِّ وجه للخالق الكامل من كلِّ وجه بصفةٍ من صفاته، وهي الكلام.

ومنها: أنَّ الرسول قد عُلِمَتْ حالُه ، وهم أشدُّ الناس علماً بها؛ أنَّه لا يكتبُ ولا يجتمعُ بمن يكتبُ له؛ وهم قد زعموا ذلك.