تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 4

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکُۨ افۡتَرٰىہُ وَ اَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ ۚۛ فَقَدۡ جَآءُوۡ ظُلۡمًا وَّ زُوۡرًا ۚ﴿ۛ۴﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ En
اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہی جو اس (مدعی رسالت) نے بنالی ہیں۔ اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اُتر) آئے ہیں
En
اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ﻇلم اور سرتاسر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا… کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آ سکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام مخلوق کے لیے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے … پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وقال الكافرون بالله، الذي أوجب لَهم كُفْرُهم أنْ قالوا في القرآن والرسول: إنَّ هذا القرآنَ كذبٌ كَذَبه محمد، وإفكٌ افتراه على الله، وأعانه على ذلك قومٌ آخرون؛ فردَّ الله عليهم ذلك بأنَّ هذا مكابرةٌ منهم وإقدامٌ على الظُّلم والزُّور الذي لا يمكن أن يدخلَ عقلَ أحدٍ؛ وهم أشدُّ الناس معرفةً بحالة الرسول - صلى الله عليه وسلم - وكمال صدقِهِ وأمانتِهِ وبرِّه التامِّ، وأنَّه لا يمكِنُه لا هو ولا سائرُ الخلق أن يأتوا بهذا القرآنِ الذي هو أجلُّ الكلام وأعلاه، وأنَّه لم يجتمعْ بأحدٍ يُعينه على ذلك؛ {فقد جاؤوا} بهذا القول ظلماً {وزوراً}.