تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 44

اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾
یا تو گمان کرتا ہے کہ ان کے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ نہیں ہیں مگر چوپائوں کی طرح ، بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں۔ En
یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں
En
کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثمَّ سجَّل تعالى على ضلالهم البليغ بأنْ سَلَبَهُمُ العقولَ والأسماع، وشبَّههم في ضلالهم بالأنعام السائمة التي لا تسمعُ إلاَّ دعاءً ونداءً {صمٌ بكمٌ عميٌ فهم لا يعقِلونَ}، بل هم أضلُّ من الأنعام؛ فإنَّ الأنعام يهديها راعيها فتهتدي، وتعرف طريق هلاكها فتجتنبه، وهي أيضاً أسلم عاقبةً من هؤلاء، فتبيَّن بهذا أن الرامي للرسول بالضَّلال أحقُّ بهذا الوصف، وأنَّ كلَّ حيوان بهيم؛ فهو أهدى منه.