تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 43

اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش ہی کو بنا لیا، تو کیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔ En
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو
En
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہدار ہوسکتے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَؔكِیْلًا کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهل فوق ضلال مَنْ جعل إلهه معبودَه ؛ فما هويه فعله؟! فلهذا قال: {أرأيتَ مَنِ اتَّخَذَ إلهه هواه}: ألا تعجبُ من حاله وتنظُر ما هو فيه من الضلال وهو يحكُم لنفسِهِ بالمنازل الرفيعة، {أفأنتَ تكون عليه وكيلاً}؛ أي: لست عليه بمسيطرٍ مسلَّط، بل إنما أنت منذرٌ قد قمتَ بوظيفتِك. وحسابُهُ على الله.