تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 28

یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾
ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ En
ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
En
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّؔخِذْ فُلَانًا ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِیْلًا یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا ويلتى ليتني لم أتَّخِذْ فلاناً}: وهو الشيطانُ الإنسيُّ أو الجنيُّ {خليلاً}؛ أي: حبيباً مصافياً، عاديتُ أنصحَ الناس لي وأبرَّهم بي وأرفَقَهم بي، وواليتُ أعدى عدوٍّ لي، الذي لم تُفِدْني ولايتُهُ إلاَّ الشقاءَ والخسارَ والخِزْيَ والبَوارَ.