تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیَوْمَیَعَضُّالظَّالِمُ ﴾”اور جس دن کاٹے گا ظالم“ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰىیَدَیْهِ﴾”اپنے ہاتھوں کو۔“ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ یَقُوْلُیٰلَیْتَنِیاتَّؔخَذْتُمَعَالرَّسُوْلِسَبِیْلًا﴾”وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔“ یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويوم يَعَضُّ الظالمُ}: بشركِهِ وكفرِهِ وتكذيبِهِ للرسل {على يديه}: تأسُّفاً وتحسُّراً وحزناً وأسفاً، {يقولُ يا ليتني اتَّخَذْتُ مع الرسول سبيلاً}؛ أي: طريقاً بالإيمان به وتصديقِهِ واتِّباعِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔