اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے؟ بلا شبہ یقینا وہ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے سرکشی اختیار کی ، بہت بڑی سر کشی۔
En
اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہی
اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے؟ ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کرلی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید… انھوں نے کہا: ﴿ لَوْلَاۤاُنْزِلَعَلَیْنَاالْمَلٰٓىِٕكَةُاَوْنَرٰىرَبَّنَا﴾ یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو؟ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ ﴿لَقَدِاسْتَكْبَرُوْافِیْۤاَنْفُسِهِمْ ﴾”انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔“ کیونکہ انھوں نے اس قسم کے اعتراض كيے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اے محتاج اور بے بس لوگو! تم ہو کون، جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہو سکتا ہے؟ ﴿وَعَتَوْعُتُوًّ٘اكَبِیْرًا ﴾”اور انھوں نے بڑی سرکشی کی۔“ یعنی انھوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لیے نرم پڑتے تھے نہ خیرخواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لیے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انھوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انھوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیرخواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہو سکتی ہے؟ بنابریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال المكذِّبون للرسول، المكذِّبون بوعد الله ووعيده، الذين ليس في قلوبهم خوفُ الوعيد ولا رجاءُ لقاء الخالق: {لولا أُنزِلَ علينا الملائكةُ أو نرى رَبَّنا}؛ أي: هلاَّ نزلت الملائكة تشهدُ لك بالرسالةِ وتؤيِّدُك عليها، أو تنزِلُ رسلاً مستقلِّين، أو نرى ربَّنا فيكلِّمنا ويقول: هذا رسولي؛ فاتِّبعوه! وهذا معارضةٌ للرسول بما ليس بمعارِضٍ، بل بالتكبُّر والعلوِّ والعتوِّ. {لقدِ اسْتَكْبَروا في أنْفُسِهِم}: حيث اقترحوا هذا الاقتراح وتجرؤوا هذه الجرأةَ؛ فمن أنتم يا فقراءُ ويا مساكينُ حتى تطلبوا رؤيةَ الله وتزعُموا أن الرسالة متوقِّف ثبوتُها على ذلك؟! وأيُّ كِبْرٍ أعظم من هذا؟! {وعَتَوْا عُتُوًّا كبيراً}؛ أي: قسوا وصلبوا عن الحقِّ قساوةً عظيمة؛ فقلوبهم أشدُّ من الأحجار وأصلبُ من الحديد، لا تَلين للحقِّ ولا تُصْغي للناصحين؛ فلذلك لم ينجعْ فيهم وعظٌ ولا تذكيرٌ، ولا اتَّبعوا الحقَّ حين جاءهم النذيرُ، بل قابلوا أصدقَ الخَلْقِ وأنصَحَهم وآياتِ الله البيناتِ بالإعراض والتكذيب [والمعارضة]؛ فأيُّ عتوٍّ أكبرُ من هذا العتوِّ؟! ولذلك بَطَلَتْ أعمالُهم، واضمحلَّتْ، وخسروا أشدَّ الخسران، [وحرموا غايةَ الحرمانِ].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔