تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ منکرین نے کہا کہ (اس نبی پر فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے تو) ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے، یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے؟ یہ ایسی بات ہے کہ کسی انسان کا حق نہیں کہ زبان پر لانے کی جرأت کرے، کیونکہ یہ اس ذات پاک پر اعتراض ہے جس کی عظمت کی کوئی حد ہے نہ کوئی اس کی حکمتیں معلوم کر سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قسم کا مفہوم رکھنے والے الفاظ {” لَقَدْ “} کے ساتھ فرمایا کہ مجھے قسم ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے ایسی سرکشی اختیار کی جو بہت بڑی سرکشی ہے۔ حالانکہ نہ حقیقت میں انھیں کوئی بڑائی حاصل ہے نہ لوگوں کی نگاہ میں۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اس نبی کے ساتھ فرشتے اترتے، یا خود رب تعالیٰ سامنے آ کر اس کی تصدیق کرتا۔ گویا ان کے لیے نبی کے واضح معجزات خصوصاً قرآن کی کوئی حیثیت نہیں، جس کی ایک سورت کی مثل وہ نہیں لا سکے۔
➌ کفار کا یہ اعتراض اللہ تعالیٰ نے دوسرے کئی مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ سورۂ انعام میں فرمایا: «{ وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ }» [الأنعام: ۱۲۴] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔“ اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیات (۹۰ تا ۹۳) میں ان مطالبات کا ذکر ہے جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کیے تھے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا: «{ اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا }» [بني إسرائیل: ۹۲] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“
➍ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑا تکبر اور بہت بڑی سرکشی اس لیے قرار دیا کہ انھوں نے اپنے ہر شخص کے لیے نبی کا مرتبہ ملنے کا مطالبہ کیا جو فرشتے کے نزول کی وجہ سے اسے حاصل ہوتا ہے۔ (دیکھیے مدثر: ۵۲، ۵۳) پھر یہیں تک نہیں رہے، بلکہ کئی فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا جو ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئیں۔ اس سے بھی بڑھے تو رب تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ گویا ان چیزوں کا مطالبہ کر دیا جو نبیوں کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال تو موسیٰ علیہ السلام نے بھی کیا تھا، اسے تکبر کیوں نہیں کہا گیا؟ جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ ایمان کی شرط کے طور پر نہیں کیا تھا بلکہ شوق کے تقاضے سے کیا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[30] یعنی ہم نے جو ان کو مال و دولت کی فراوانی اور آسودگی عطا کی ہے تو یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر فرشتہ اس شخص پر جو ان کے خیال کے مطابق ان سے کم درجہ کا آدمی ہے، نازل ہو سکتا ہے تو آخر ہم لوگوں پر کیوں نازل نہیں ہو سکتا، یا پھر ہمیں خود اللہ تعالیٰ ان باتوں کی یقین دہانی کرائے۔ اس شخص کی باتوں پر آخر ہم لوگ کیسے یقین کر لیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔
نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال المكذِّبون للرسول، المكذِّبون بوعد الله ووعيده، الذين ليس في قلوبهم خوفُ الوعيد ولا رجاءُ لقاء الخالق: {لولا أُنزِلَ علينا الملائكةُ أو نرى رَبَّنا}؛ أي: هلاَّ نزلت الملائكة تشهدُ لك بالرسالةِ وتؤيِّدُك عليها، أو تنزِلُ رسلاً مستقلِّين، أو نرى ربَّنا فيكلِّمنا ويقول: هذا رسولي؛ فاتِّبعوه! وهذا معارضةٌ للرسول بما ليس بمعارِضٍ، بل بالتكبُّر والعلوِّ والعتوِّ. {لقدِ اسْتَكْبَروا في أنْفُسِهِم}: حيث اقترحوا هذا الاقتراح وتجرؤوا هذه الجرأةَ؛ فمن أنتم يا فقراءُ ويا مساكينُ حتى تطلبوا رؤيةَ الله وتزعُموا أن الرسالة متوقِّف ثبوتُها على ذلك؟! وأيُّ كِبْرٍ أعظم من هذا؟! {وعَتَوْا عُتُوًّا كبيراً}؛ أي: قسوا وصلبوا عن الحقِّ قساوةً عظيمة؛ فقلوبهم أشدُّ من الأحجار وأصلبُ من الحديد، لا تَلين للحقِّ ولا تُصْغي للناصحين؛ فلذلك لم ينجعْ فيهم وعظٌ ولا تذكيرٌ، ولا اتَّبعوا الحقَّ حين جاءهم النذيرُ، بل قابلوا أصدقَ الخَلْقِ وأنصَحَهم وآياتِ الله البيناتِ بالإعراض والتكذيب [والمعارضة]؛ فأيُّ عتوٍّ أكبرُ من هذا العتوِّ؟! ولذلك بَطَلَتْ أعمالُهم، واضمحلَّتْ، وخسروا أشدَّ الخسران، [وحرموا غايةَ الحرمانِ].