تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 6

وَ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ شُہَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُہُمۡ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمۡ اَرۡبَعُ شَہٰدٰتٍۭ بِاللّٰہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہوں مگر وہ خود ہی تو ان میں سے ہر ایک کی شہادت اللہ کی قسم کے ساتھ چار شہادتیں ہیں کہ بلاشبہ یقینا وہ سچوں سے ہے۔ En
اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک وہ سچا ہے
En
جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لائیں اور ان کا کوئی گواه بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ﺛبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وه سچوں میں سے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اور نہ ہوں ان کے لیے اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ اپنے سوا کوئی اور گواہ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَ٘مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے: میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں۔
﴿وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)
شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا: ﴿ وَیَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَ٘مِنَ الْكٰذِبِیْنَ اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔ یہاں اگر عذاب سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يرمون أزواجهم}؛ أي: الأحرار لا المملوكات {ولم يكن لهم}: على رَمْيِهِم بذلك {شهداءُ إلاَّ أنفسُهُم}: بأن لم يُقيموا شهداء على ما رموهم به، {فشهادةُ أحدِهم أربعُ شهاداتٍ بالله إنَّه لَمِنَ الصادقين}: سماها شهادةً لأنها نائبةٌ منابَ الشهود؛ بأن يقولَ: أشهدُ بالله أنِّي لمن الصادقين فيما رميتُها به. {والخامسةُ أنَّ لعنةَ الله عليه إن كان من الكاذبين}؛ أي: يزيد في الخامسة مع الشهادة المذكورة مؤكِّداً تلك الشهادات بأن يَدْعُوَ على نفسه باللعنة إنْ كان كاذباً؛ فإذا تَمَّ لعانُه؛ سقط عنه حدُّ القذف.

وظاهرُ الآياتِ ولو سمَّى الرجلَ الذي رماها به؛ فإنَّه يسقطُ حقُّه تَبَعاً لها.

وهل يُقام عليها الحدُّ بمجرَّد لعان الرجل ونكولها أم تُحبس؟ فيه قولانِ للعلماء، الذي يدلُّ عليه الدليل أنه يُقام عليها الحدُّ؛ بدليل قوله: {ويدرؤوا عنها العذابَ أن تَشْهَدَ ... } إلى آخره؛ فلولا أنَّ العذاب - وهو الحدُّ - قد وَجَبَ بلعانِهِ؛ لم يكن لعانها دارئاً له.