کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صاف پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
En
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ہے ان کی حقیقت احوال۔رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ آپ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اس لیے فرمایا: ﴿قُ٘لْاَطِیْعُوااللّٰهَوَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ﴾”کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ اور رسول کی۔“ اگر وہ اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں تو یہ ان کی سعادت ہے۔ ﴿فَاِنْتَوَلَّوْافَاِنَّمَاعَلَیْهِمَاحُمِّلَ ﴾”پس اگر تم نے روگردانی کی تو اس (پیغمبر) پر وہ (ذمے داری) ہے جو اس پر ڈالی گئی۔“ یعنی رسالت کی ذمے داری، جو اس نے ادا کر دی﴿ وَعَلَیْكُمْمَّاحُمِّلْتُمْ﴾”اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی۔“ یعنی اطاعت کی ذمہ داری اور اس بارے میں تمھارا حال ظاہر ہو گیا ہے، تمھاری گمراہی اور تمھارا استحقاق عذاب واضح ہو گیا ہے۔ ﴿ وَاِنْتُطِیْعُوْهُتَهْتَدُوْا﴾”اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پالو گے۔“ اپنے قول و فعل میں راہ راست کی۔ اس کی اطاعت کے سوا تم کسی طریقے سے بھی راہ راست نہیں پا سکتے، یہ ناممکن ہی نہیں بلکہ سخت محال بھی ہے۔
﴿ وَمَاعَلَىالرَّسُوْلِاِلَّاالْ٘بَلٰ٘غُ٘الْمُبِیْنُ ﴾ یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تمھیں واضح طور پر پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے، جس میں کسی کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اور پیغام الٰہی کو واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ہی تمھارا حساب لے گا اور تمھیں اس کی جزا دے گا۔ رسول کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه حالُهم في نفس الأمر، وأمَّا الرسولُ عليه الصلاة والسلام؛ فوظيفتُهُ أنْ يأمُرَكم وينهاكُم، ولهذا قال: {قُلْ أطيعوا اللهَ وأطيعوا الرسولَ فإن}: امتثلوا؛ كان حظَّكم وسعادَتَكم، وإنْ {تَوَلَّوْا فإنَّما عليه ما حُمِّلَ}: من الرسالة، وقد أدَّاها، {وعليكُم ما حُمِّلْتُم}: من الطاعة، وقد بانت حالُكم وظهرتْ، فبان ضلالُكم وغيُّكم واستحقاقُكم العذاب. {وإن تُطيعوه تَهْتَدوا}: إلى الصراط المستقيم قولاً وعملاً؛ فلا سبيلَ لكم إلى الهداية إلاَّ بطاعتِهِ، وبدون ذلك لا يمكنُ، بل هو محالٌ. {وما على الرسول إلاَّ البلاغُ المُبينُ}؛ أي: تبليغُكُم البيِّنُ الذي لا يُبقي لأحدٍ شَكًّا ولا شبهةً، وقد فعل - صلى الله عليه وسلم -؛ بَلَّغَ البلاغَ المُبين، وإنَّما الذي يحاسِبُكم ويجازيكم هو الله تعالى؛ فالرسول ليس له من الأمرِ شيءٌ، وقد قام بوظيفتِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔