اور انھوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں، اپنی پختہ قسمیں کہ اگر واقعی تو انھیں حکم دے تو وہ ہر صورت ضرور نکلیں گے، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ، جانی پہچانی ہوئی اطاعت (ہی کافی ہے)۔ بے شک اللہ اس سے خوب واقف ہے جو تم کرتے ہو۔
En
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں نکلے اورپیچھے گھروں میں بیٹھ رہے، نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں:﴿ لَىِٕنْاَمَرْتَهُمْ ﴾”البتہ اگر آپ انھیں حکم دیں “ مستقبل میں یا جہاد کے لیے نکلتے وقت آپ ان کے نکلنے پر صراحت کے ساتھ اصرار کریں گے﴿ لَیَخْرُجُنَّ ﴾”تو وہ ضرور نکلیں گے۔“ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُ٘لْلَّاتُ٘قْ٘سِمُوْا ﴾”کہہ دیجیے! نہ قسمیں کھاؤ۔“ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمھارے عذروں کی توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمھاری اطاعت گزاری سب کے سامنے ہے، ہم پر مخفی نہیں، ہم تمھاری سستی اور کسی عذر کے بغیر تمھاری کسل مندی کو خوب جانتے ہیں، اس لیے تمھارے عذر پیش کرنے اور قسمیں اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا محتاج تو صرف وہ ہوتا ہے جس کے معاملے میں متعدد احتمالات ہوں اور اس کا حال مشتبہ ہو، ایسے شخص کے لیے کبھی کبھی عذر اس کی براء ت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مگر تمھیں عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تمھارے بارے میں تو اس بات کا ڈر اور انتظار ہے کہ کب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا غضب نازل ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّاللّٰهَخَبِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ ﴾”بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے باخبر ہے“ وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا…
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبِرُ تعالى عن حالة المتخلِّفين عن الرسول - صلى الله عليه وسلم - في الجهادِ من المنافقين ومَن في قلوبِهِم مرضٌ وضَعْفُ إيمان أنَّهم يقسِمون بالله: {لئن أمَرْتَهم}: فيما يُسْتَقْبَلُ أو لئنْ نصصتَ عليهم حين خرجتَ؛ {لَيَخْرُجُنَّ} والمعنى الأولُ أولى. قال الله رادًّا عليهم: {قُلْ لا تقسِموا}؛ أي: لا نحتاج إلى إقسامكم وإلى أعذاركم؛ فإنَّ الله قد نبَّأنا من أخباركم. وطاعتُكُم معروفةٌ لا تَخْفى علينا، قد كُنَّا نعرِفُ منكم التثاقلَ والكسلَ من غير عذرٍ؛ فلا وجهَ لِعُذْرِكم وقَسَمِكم، إنَّما يحتاجُ إلى ذلك من كان أمرُهُ محتملاً وحاله مُشتبهةً؛ فهذا ربما يفيدُه العذر براءةً، وأمَّا أنتُم؛ فكلاَّ ولمَّا، وإنَّما يُنْتَظَرُ بكم ويُخاف عليكم حلول بأس الله ونقمته، ولهذا توعَّدهم بقوله: {إنَّ الله خبيرٌ بما تعملون}: فيجازِيكم عليها أتمَّ الجزاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔