کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی نہ کریں؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی بڑے ﻇالم ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان لوگوں کی احکام شریعت سے روگردانی پر ملامت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اَفِیْقُ٘لُوْبِهِمْمَّرَضٌ ﴾”کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے؟“ جس نے ان کے دلوں کو صحت کے دائرہ سے نکال دیا، اس کا احساس جاتا رہا اور وہ بیمار آدمی کی طرح ہوگئے جو ہمیشہ اس چیز سے اعراض کرتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو قبول کرتا ہے جو اس کے لیے ضرر رساں ہے۔﴿ اَمِارْتَابُوْۤا ﴾ یا انھیں کوئی شک ہے یا ان کے دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بارے میں اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا۔
﴿ اَمْیَخَافُوْنَاَنْیَّحِیْفَاللّٰهُعَلَیْهِمْوَرَسُوْلُهٗ ﴾”یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ظلم وجور پر مبنی فیصلہ کرے گا حالانکہ یہ تو انھی کا وصف ہے۔ ﴿بَلْاُولٰٓىِٕـكَهُمُالظّٰلِمُوْنَ ﴾”بلکہ ظالم تو وہ خود ہیں۔“ رہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تو وہ انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اور حکمت کے موافق ہے۔ ﴿ وَمَنْاَحْسَنُمِنَاللّٰهِحُكْمًالِّقَوْمٍیُّوْقِنُوْنَ﴾ (المائدہ:5؍50) ”یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ اچھا ہو سکتا ہے؟“
ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان مجرد قول کا نام نہیں بلکہ ایمان صرف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی مقرون ہو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے ایمان کی نفی کی ہے جو اطاعت سے منہ موڑتا ہے اور ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے وجوب کو نہیں مانتا اور اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سرافگندہ نہیں ہوتا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں بیماری اور اس کے ایمان میں شک وریب کا شائبہ ہے، نیز احکام شریعت کے بارے میں بدگمانی کرنا اور ان کو عدل و حکمت کے خلاف سمجھنا حرام ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله في لومهم على الإعراض عن الحكم الشرعي: {أفي قلوبِهِم مرضٌ}؛ أي: علَّة أخرجت القلبَ عن صحَّتِهِ وأزالت حاسَّته فصار بمنزلة المريض الذي يعرِضُ عمَّا ينفعُه ويُقْبِلُ على ما يضرُّه. {أم ارتابوا}؛ أي: شكُّوا وقلقتْ قلوبُهم من حكم الله ورسوله واتَّهموه أنه لا يحكُمُ بالحقِّ. {أم يخافون أن يحيفَ اللهُ عليهم ورسولُه}؛ أي: يحكم عليهم حكماً ظالماً جائراً، وإنَّما هذا وصفُهم؛ {بل أولئك هم الظالمونَ}، وأما حكُم اللهِ ورسولِهِ؛ ففي غاية العدالةِ والقِسْط وموافقةِ الحكمة، {ومَنْ أحسنُ من الله حُكْماً لقوم يوقِنونَ}.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أنَّ الإيمان ليس هو مجرد القول حتى يقترِنَ به العملُ، ولهذا نفى الإيمان عمَّنْ تولَّى عن الطاعة ووجوب الانقياد لحكم الله ورسولِهِ في كلِّ حال، وأنَّ مَن لم يَنْقَدْ له دلَّ على مرض في قلبِهِ ورَيْبٍ في إيمانِهِ، وأنَّه يحرم إساءة الظنِّ بأحكام الشريعة، وأنْ يظنَّ بها خلاف العدل والحكمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔