تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”دل میں روگ یہ کہ اللہ اور رسول کو سچ جانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں، جیسے بیمار چاہتا ہے کہ چلے مگر پاؤں نہیں اٹھتے۔“ (موضح) اس سے معلوم ہوا کہ جو قاضی کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اس کے سمن کو قبول کرنا واجب ہے اور اس سے کترانا اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے منہ موڑنا ہے، مگر جو قاضی کتاب و سنت سے بے خبر ہو اور اس نے کسی عالم و مجتہد کے آراء و اجتہادات کو جمع کر رکھا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو تو اس کے پاس مقدمہ لے جانا اور اس کے سمن کو قبول کرنا ضروری نہیں، اس لیے کہ اس رائے پر عمل کرنا اس مجتہد کے لیے جائز تھا جس کی طرف وہ رائے منسوب ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک اسے کتاب و سنت کا فیصلہ نہ پہنچا تھا، مگر کسی دوسرے کے لیے اس پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنا اور اس کے مطابق لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔
جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله في لومهم على الإعراض عن الحكم الشرعي: {أفي قلوبِهِم مرضٌ}؛ أي: علَّة أخرجت القلبَ عن صحَّتِهِ وأزالت حاسَّته فصار بمنزلة المريض الذي يعرِضُ عمَّا ينفعُه ويُقْبِلُ على ما يضرُّه. {أم ارتابوا}؛ أي: شكُّوا وقلقتْ قلوبُهم من حكم الله ورسوله واتَّهموه أنه لا يحكُمُ بالحقِّ. {أم يخافون أن يحيفَ اللهُ عليهم ورسولُه}؛ أي: يحكم عليهم حكماً ظالماً جائراً، وإنَّما هذا وصفُهم؛ {بل أولئك هم الظالمونَ}، وأما حكُم اللهِ ورسولِهِ؛ ففي غاية العدالةِ والقِسْط وموافقةِ الحكمة، {ومَنْ أحسنُ من الله حُكْماً لقوم يوقِنونَ}.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أنَّ الإيمان ليس هو مجرد القول حتى يقترِنَ به العملُ، ولهذا نفى الإيمان عمَّنْ تولَّى عن الطاعة ووجوب الانقياد لحكم الله ورسولِهِ في كلِّ حال، وأنَّ مَن لم يَنْقَدْ له دلَّ على مرض في قلبِهِ ورَيْبٍ في إيمانِهِ، وأنَّه يحرم إساءة الظنِّ بأحكام الشريعة، وأنْ يظنَّ بها خلاف العدل والحكمة.