تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 2

اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجۡلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا مِائَۃَ جَلۡدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۚ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾
جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔ En
بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو
En
زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آیت میں مذکور یہ حکم غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے ہے کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں، البتہ شادی شدہ زناکار ہو تو سنت صحیحہ مشہورہ دلالت کرتی ہے کہ ان کی حد رجم (یعنی سنگسار کرنا) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ زنا کار مرد و زن پر حد جاری کرتے وقت ہم پر رحم و شفقت کا ایسا جذبہ پیدا نہ ہو کہ جو ہمیں ان پر حد قائم کرنے سے روک دے۔ خواہ یہ رحم طبعی ہو یا قرابت یا دوستی وغیرہ کی وجہ سے ہو۔ ایمان اس رحم کی نفی کا موجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے سے مانع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حقیقی رحمت تو زانی پر حد نافذ کرنے میں ہے۔
اگر زانی پر تقدیر کا فیصلہ جاری ہونے پر ہمیں رحم آئے تو یہ اور بات ہے مگر نفاذ حد کے پہلو سے ہمیں اس پر رحم نہیں آنا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ زنا کاروں پر حد جاری کرتے وقت اہل ایمان کی ایک جماعت موجود ہو تاکہ حد کا نفاذ مشتہر ہو، مجرموں کی رسوائی ہو، مجرم اس گھناؤنے جرم سے باز رہیں اور لوگ بالفعل نفاذ حد کا مشاہدہ کریں کیونکہ شریعت کے احکام کے بالفعل مشاہدے سے شریعت کا علم زیادہ پختہ اور اس کا فہم راسخ ہو جاتا ہے اور مشاہدہ کرنے والا منزل صواب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اس میں کوئی اضافہ کیا جاتا ہے نہ کمی۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا الحكم في الزاني والزانية البكرين: أنَّهما يُجلد كلٌّ منهما مائة جلدةٍ، وأما الثيِّب؛ فقد دلَّت السنة الصحيحة المشهورة أنَّ حدَّه الرجم.

ونهانا تعالى أن تأخُذَنا رأفةٌ بهما في دين الله تمنعُنا من إقامة الحدِّ عليهما، سواء رأفة طبيعيَّة، أو لأجل قرابة أو صداقة أو غير ذلك، وأنَّ الإيمان موجبٌ لانتفاء هذه الرأفة المانعة من إقامة أمرِ الله؛ فرحمتُه حقيقةً بإقامة الحدِّ عليه، فنحنُ وإن رَحِمْناه لِجَرَيان القدر عليه؛ فلا نَرْحَمُه من هذا الجانب.

وأمَرَ تعالى أن يَحْضُرَ عذابَ الزانيين {طائفةٌ}؛ أي: جماعة من المؤمنين؛ ليشتهر ويحصُلَ بذلك الخزي والارتداع، وليشاهدوا الحدَّ فعلاً؛ فإنَّ مشاهدة أحكام الشرع بالفعل مما يَقْوى به العلم، ويستقرُّ بها الفهم، ويكونُ أقربَ لإصابة الصواب؛ فلا يزادُ فيه ولا ينقص. والله أعلم.