تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَوْلَافَضْلُاللّٰهِعَلَیْكُمْوَرَحْمَتُهٗفِیالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ ﴾”اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی“﴿ لَمَسَّكُمْفِیْمَاۤاَفَضْتُمْفِیْهِ ﴾”تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔“ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌعَظِیْمٌ ﴾”بہت بڑا عذاب۔“ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولولا فضلُ اللهِ عليكم ورحمتُهُ في الدُّنيا والآخرة}: بحيث شملكم إحسانُه فيهما في أمر دينكم ودنياكم {لَمَسَّكُم فيما أفَضْتُم}؛ أي: خضتم {فيه}: من شأن الإفك {عذابٌ عظيمٌ}: لاستحقاقِكم ذلك بما قلتُم، ولكن من فضل الله عليكم ورحمتِهِ أن شَرَعَ لكم التوبةَ، وجعل العقوبةَ مطهِّرةً للذنوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔