تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 14

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمۡ فِیۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِیۡہِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۚۖ۱۴﴾
اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ En
اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی ﴿ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِیْمٌ بہت بڑا عذاب۔ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولولا فضلُ اللهِ عليكم ورحمتُهُ في الدُّنيا والآخرة}: بحيث شملكم إحسانُه فيهما في أمر دينكم ودنياكم {لَمَسَّكُم فيما أفَضْتُم}؛ أي: خضتم {فيه}: من شأن الإفك {عذابٌ عظيمٌ}: لاستحقاقِكم ذلك بما قلتُم، ولكن من فضل الله عليكم ورحمتِهِ أن شَرَعَ لكم التوبةَ، وجعل العقوبةَ مطهِّرةً للذنوب.