تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَوْلَاجَآءُوْعَلَیْهِبِاَرْبَعَةِشُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذْلَمْیَ٘اْتُوْابِالشُّهَدَآءِفَاُولٰٓىِٕكَعِنْدَاللّٰهِهُمُالْكٰذِبُوْنَ ﴾”پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں۔“ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَعِنْدَاللّٰهِهُمُالْكٰذِبُوْنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ”وہ جھوٹے ہیں “ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لولا جاؤوا عليه بأربعة شهداءَ}؛ أي: هلاَّ جاء الرامون على ما رَمَوْا به بأربعة شهداء؛ أي: عدول مرضيين، {فإذْ لم يأتوا بالشهداءِ فأولئك عندَ اللهِ هم الكاذبونَ}: وإن كانوا في أنفسِهم قد تيقَّنوا ذلك؛ فإنَّهم كاذبونَ في حكم الله؛ لأنَّه حرَّمَ عليهم التكلُّم بذلك من دون أربعة شهود، ولهذا قال: {فأولئك عند الله هم الكاذبون}: ولم يَقُلْ: فأولئك هم الكاذبون، وهذا كلُّه من تعظيم حرمةِ عِرْضِ المسلم؛ بحيثُ لا يجوز الإقدام على رميِهِ من دون نِصاب الشهادة بالصدق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔