تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 79

وَ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۹﴾
اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر جاؤ گے
En
اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَهُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمھیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمھاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کر دیا۔ ﴿ وَاِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے كيے جاؤ گے اور زمین پر تم جس خیر و شر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین، جس پر تم آباد تھے، تمھاری خبریں بیان کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو}: تعالى {الذي ذَرَأَكم في الأرض}؛ أي: بثَّكم في أقطارها وجهاتها، وسلَّطكم على استخراج مصالحها ومنافعها، وجعلها كافيةً لمعايِشِكُم ومساكِنِكم. {وإليه تُحْشَرون}: بعد موتِكُم فيجازيكم بما عَمِلْتُم في الأرض من خيرٍ وشرٍّ، وتُحدِّث الأرضُ التي كنتُم فيها بأخبارها.