تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 78

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (لیکن) تم کم شکرگزاری کرتے ہو
En
وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انھیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَهُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان۔ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو ﴿ وَالْاَبْصَارَ اور آنکھیں تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ ﴿وَالْاَفْـِٕدَةَ اور دل۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نوازا تاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کر سکو اور جانوروں سے ممتاز ہو سکو۔ اگر تم سماعت، بصارت اور عقل سے محروم ہو جاؤ بایں طو ر کہ تم بہرے، اندھے اور گونگے ہو جاؤ تو تمھارا کیا حال ہو؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہوکر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی توحید اور اطاعت پر قائم رہتے؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود، تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى بِمِنَنِه على عباده الدّاعي لهم إلى شكرِهِ والقيام بحقِّه، فقال: {وهو الذي أنشأ لكم السمعَ}: لِتُدْرِكوا به المسموعاتِ فَتَنْتَفِعوا في دينِكم ودُنْياكم، {والأبصارَ}: لِتُدْرِكوا بها المُبْصَراتِ فتنتفِعوا بها في مصالِحِكم، {والأفئدةَ}؛ أي: العقول التي تدرِكون بها الأشياءَ وتتميَّزون بها عن البهائم؛ فلو عدِمْتُم السمعَ والأبصارَ والعقولَ بأن كنتم صمًّا عمياً بكماً؛ ماذا تكونُ حالكم؟ وماذا تفقِدون من ضروريَّاتِكم وكمالكم؟ أفلا تشكُرون الذي منَّ عليكُم بهذه النِّعم؛ فتقومون بتوحيدِهِ وطاعتِهِ؟ ولكنَّكم قليلاً شكركم مع توالي النعم عليكم.