تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَهُمْبِاٰیٰتِرَبِّهِمْیُؤْمِنُوْنَ﴾”اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔“ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔
نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّفِیْخَلْ٘قِالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَاخْتِلَافِالَّیْلِوَالنَّهَارِلَاٰیٰتٍلِّاُولِیالْاَلْبَابِ﴾ (آل عمران:3؍190) ”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين هم بآياتِ ربِّهم يؤمنونَ}؛ أي: إذا تُلِيَتْ عليهم آياتُه؛ زادتْهم إيماناً، ويتفكَّرون أيضاً في الآيات القرآنيَّة، ويتدبَّرونها، فَيَبِينُ لهم من معاني القرآن وجلالتِهِ واتِّفاقِهِ وعدم اختلافِهِ وتناقضِهِ وما يدعو إليه من معرفة الله وخوفِهِ ورجائِهِ وأحوال الجزاء، فيحدثُ لهم بذلك من تفاصيل الإيمان ما لا يُعَبِّرُ عنه اللسانُ، ويتفكَّرون أيضاً في الآيات الأفقيَّة؛ كما في قوله: {إنَّ في خَلْقِ السمواتِ والأرضِ واختلافِ الليل والنهارِ لآياتٍ لأولي الألباب ... } إلى آخر الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔