تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 57

اِنَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَۃِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾
بے شک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔ En
جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں
En
یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الذينَ هم من خَشْيَةِ ربِّهم مشفِقونَ}؛ أي: وجِلون، مشفقة قلوبُهم، كلُّ ذلك من خشية ربِّهم؛ خوفاً أن يَضَعَ عليهم عدلَه؛ فلا يُبقي لهم حسنةً، وسوءَ ظنٍّ بأنفسهم أنْ لا يكونوا قد قاموا بحقِّ الله تعالى، وخوفاً على إيمانِهِم من الزَّوال، ومعرفةً منهم بربِّهم وما يستحقُّه من الإجلال والإكرام. وخوفُهم وإشفاقُهم يوجِبُ لهم الكفَّ عما يوجِبُ الأمرُ المخوفُ من الذُّنوب والتقصير في الواجبات.