تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ثم أنشأنا من بعد هؤلاء المكذِّبين المعانِدين {قروناً آخرين}: كلُّ أمةٍ في وقت مسمًّى وأجل محدود، لا تتقدَّم عنه ولا تتأخَّر، وأرسَلْنا إليهم رُسُلاً متتابعةً لعلَّهم يؤمنون وينيبون، فلم يزلِ الكفرُ والتكذيب دأبَ الأمم العُصاة والكَفَرة البغاة، {كلَّ ما جاء أمَّةً رسولُها كذَّبوه}: مع أنَّ كلَّ رسول يأتي من الآيات ما يؤمن على مثلِهِ البشر، بل مجرَّد دعوةِ الرسل وشرعِهِم يدلُّ على حَقِّيَّة ما جاؤوا به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔