ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 42

ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قُرُوۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور زمانوں کے لوگ پیدا کیے۔ En
پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کیں
En
ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42){ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَ:} یعنی قوم ثمود کے بعد ہم نے کئی اور دور پیدا کیے۔ (طبری)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42-1اس سے مراد حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قومیں ہیں، کیونکہ سورة اعراف اور سورة ہود میں اسی ترتیب سے ان کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کے نزدیک بنو اسرائیل مراد ہیں۔ قرون، قرن کی جمع ہے اور یہاں بمعنی امت استعمال ہوا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور قومیں پیدا کیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔
تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [36- يس: 30]‏‏‏‏ افسوس ہے بندوں پر۔۔
ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا بَصِيْرًا» [17- الإسراء: 17]‏‏‏‏ نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ثم أنشأنا من بعد هؤلاء المكذِّبين المعانِدين {قروناً آخرين}: كلُّ أمةٍ في وقت مسمًّى وأجل محدود، لا تتقدَّم عنه ولا تتأخَّر، وأرسَلْنا إليهم رُسُلاً متتابعةً لعلَّهم يؤمنون وينيبون، فلم يزلِ الكفرُ والتكذيب دأبَ الأمم العُصاة والكَفَرة البغاة، {كلَّ ما جاء أمَّةً رسولُها كذَّبوه}: مع أنَّ كلَّ رسول يأتي من الآيات ما يؤمن على مثلِهِ البشر، بل مجرَّد دعوةِ الرسل وشرعِهِم يدلُّ على حَقِّيَّة ما جاؤوا به.