تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَالَّذِیْنَهُمْعَنِاللَّغْوِ ﴾”اور وہ لغو سے۔“ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعْرِضُوْنَ﴾”اعراض کرنے والے ہیں۔“ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے، جبکہ آپ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ”کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟“ حضرت معاذ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا، جی ہاں! ضرور بتائیں، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ”اس کو اپنے قابو میں رکھو“(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين هم عن اللغو}: وهو الكلام الذي لا خير فيه ولا فائدة، {معرضون}: رغبةً عنه وتنزيهاً لأنفسهم وترفُّعاً عنه، وإذا مرُّوا باللغو مرُّوا كراماً، وإذا كانوا معرضين عن اللغو؛ فإعراضُهم عن المحرَّم من باب أولى وأحرى، وإذا مَلَكَ العبدُ لسانَه وخَزَنَه إلاَّ في الخير؛ كان مالكاً لأمرِهِ؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - لمعاذ بن جبل حين وصَّاه بوصايا؛ قال: «ألا أخبرك بملاك ذلك كله؟». قلت: بلى يا رسول الله! فأخذ بلسان نفسه وقال: «كفَّ عليك هذا». فالمؤمنون من صفاتهم الحميدة كفُّ ألسنتهم عن اللغو والمحرَّمات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔