تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِیْصَلَاتِهِمْخٰشِعُوْنَؔ﴾”اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں۔“ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الذين من صفاتهم الكاملة أنهم {في صلاتهم خاشِعونَ}: والخشوع في الصلاة هو حضورُ القلب بين يدي الله تعالى، مستحضراً لقربه، فيسكن لذلك قلبه، وتطمئن نفسه، وتسكن حركاتُه، ويقلُّ التفاتُه، متأدِّباً بين يدي ربِّه، مستحضراً جميع ما يقوله ويفعله في صلاتِهِ من أول صلاته إلى آخرها، فتنتفي بذلك الوساوس والأفكار الرديَّة، وهذا روح الصلاة والمقصود منها، وهو الذي يُكْتَبُ للعبد؛ فالصلاةُ التي لا خشوع فيها ولا حضورَ قلبٍ، وإنْ كانت مُجْزِيَةً مثاباً عليها؛ فإنَّ الثواب على حسب ما يَعْقِلُ القلب منها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔