تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 118

وَ قُلۡ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۱۸﴾
اور تو کہہ اے میرے رب! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ En
اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
En
اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقُ٘لْ دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ رَّبِّ اغْ٘فِرْ وَارْحَمْ اے میرے رب! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں ناپسندیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ﴿ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقل}: داعياً لربِّك مخلصاً له الدين: {ربِّ اغْفِرْ}: لنا حتى تُنْجِيَنا من المكروه، وارحَمْنا لتوصِلَنا برحمتك إلى كلِّ خير. {وأنت خيرُ الراحمين}: فكلُّ راحم للعبدِ؛ فالله خيرٌ له منه، أرحمُ بعبدِهِ من الوالدة بولدِها، وأرحمُ به من نفسه.