تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 117

وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ En
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
En
جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل و براہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں مگر اس نے ظلم اور عناد کی بنا پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ کافر ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا یُفْ٘لِحُ الْ٘كٰفِرُوْنَ بلاشبہ، کافر فلاح نہیں پاتے۔ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن دعا مع الله آلهةً غيره بلا بيِّنة من أمرِهِ ولا برهانٍ على ذلك يدلُّ على ما ذهب إليه، وهذا قيدٌ ملازمٌ؛ فكلُّ مَن دعا غير الله؛ فليس له برهانٌ على ذلك، بل دلَّت البراهينُ على بطلانِ ما ذهبَ إليه، فأعرض عنها ظلماً وعناداً؛ فهذا سيقدُمُ على ربِّه فيجازيه بأعمالِهِ ولا ينيلُه من الفلاح شيئاً؛ لأنه كافر، {إنَّه لا يفلحُ الكافرونَ}: فكفرُهم منعهم من الفلاح.