تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 66

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاکُمۡ ۫ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ ﴿۶۶﴾
اور وہی ہے جس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں مارے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا۔ بے شک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے
En
اسی نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زنده کرے گا، بے شک انسان البتہ ناشکرا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَهُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ اور وہی ہے جس نے تمھیں زندہ کیا۔ اور تمھیں عدم سے وجود میں لایا ﴿ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ پھر وہ تمھیں زندہ کرنے کے بعد مارے گا ﴿ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ پھر تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ دے۔ ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ بے شک انسان۔ یعنی جنس انسان، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ﴿ لَكَفُوْرٌ ناشکرا ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور اللہ تعالیٰ کا ناسپاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ بسااوقات وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا اور اپنے رب کی قدرت کا انکار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو الذي أحياكم}: وأوجدكم من العدم، {ثم يُميتُكم}: بعد أن أحياكم، {ثم يُحييكم}: بعد موتكم؛ ليجازي المحسن بإحسانه والمسيء بإساءته. {إنَّ الإنسان}؛ أي: جنسه إلاَّ مَنْ عَصَمَهُ الله؛ {لكفورٌ}: لنعم الله، كفورٌ بالله، لا يعترف بإحسانه، بل ربَّما كفر بالبعث وقدرة ربِّه.