تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 65

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ وَ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ یُمۡسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الۡاَرۡضِ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۵﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمھاری خاطر مسخر کر دیا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بے شک اللہ یقینا لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیرفرمان کر رکھی ہیں اور کشتیاں (بھی) جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں۔ اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گڑ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بےشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے
En
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گر پڑے، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت ونرمی کرنے واﻻ اور مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بے پایاں نعمت اور بے حد احسانات کو نہیں دیکھا؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیے مسخر کر دیا ہے، چنانچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لیے مسخر کر دیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کر دیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے۔
﴿ وَالْفُلْكَ یعنی تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کر دیا ﴿ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ وہ سمندوں میں تمھیں اور تمھارے تجارتی سامان کو اٹھائے پھرتی ہیں اور تمھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں، نیز تم سمندر سے موتی نکالتے ہو جنھیں تم زیور کے طور پر پہنتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ ﴿وَیُمْسِكُ السَّمَآءَؔ اَنْ تَ٘قَ٘عَ عَلَى الْاَرْضِ اس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتا اور زمین پر موجود ہر چیز کو تلف اور ہر انسان کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ١ۚ ۬ وَلَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَ٘هُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا (فاطر:35؍41) بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے اگر وہ دونوں ٹل (ڈول) جائیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور بخش دینے والا ہے۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھلائی چاہتا ہے اور وہ خود برائی اور ضرر چاہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام اشیاء کو ان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ألم تشاهدْ ببصرك وقلبك نعمة ربِّك السابغة وأياديه الواسعة، و {أنَّ الله سخَّرَ لكم ما في الأرض}: من حيوانات ونبات وجمادات؛ فجميع ما في الأرض مسخَّر لبني آدم؛ حيواناتُها لركوبه وحمله وأعماله وأكله وأنواع انتفاعه، وأشجارُها وثمارها يقتاتُها، وقد سُلِّط على غرسها واستغلالها، ومعادنها يستخرجها وينتفع بها. {والفلَك}؛ أي: وسخَّرَ لكم الفلك، وهي السفن، {تجري في البحر بأمرِهِ}: تحمِلُكم وتحمل تجاراتكم وتوصِلُكم من محل إلى محلٍّ وتستخرجون من البحر حليةً تلبَسونها. ومن رحمته بكم أنه {يُمْسِكُ السماء أن تَقَعَ على الأرض}؛ فلولا رحمتُهُ وقدرتُهُ؛ لسقطت السماء على الأرض، فتلف ما عليها، وهلك من فيها: {إنَّ الله يُمْسِكُ السمواتِ والأرضَ أن تزولا ولئن زالتا إنْ أمْسَكَهُما من أحدٍ من بعدِهِ إنَّه كان حليماً غفوراً}. {إنَّ الله بالناس لرءوفٌ رحيمٌ}: أرحم بهم من والديهم ومن أنفسهم، ولهذا يريد لهم الخير، ويريدون لها الشرَّ والضرَّ. ومن رحمته أن سخَّر لهم ما سخَّر من هذه الأشياء.