اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں وطن چھوڑا، پھر قتل کر دیے گئے، یا مر گئے یقینا اللہ انھیں ضرور رزق دے گا اچھا رزق اور بے شک اللہ ہی یقینا سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مر گئے۔ ان کو خدا اچھی روزی دے گا۔ اور بےشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
اور جن لوگوں نے راه خدا میں ترک وطن کیا پھر وه شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطراپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پرجان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ﴿ لَیَ٘رْزُقَنَّهُمُاللّٰهُرِزْقًاحَسَنًا﴾”اللہ تعالیٰ انھیں اچھا رزق عطا کرے گا “ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کرکے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔
اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کشادہ اور اچھے رزق کی ذمہ داری اٹھائی ہے، خواہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ بستر پرجان دے یا اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے، ان سب کے لیے رزق کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہجرت کرنے والے کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ جب وہ اپنے گھر بار اور مال و اولاد کو چھوڑ کر نکلے گا تو محتاج ہو جائے گا کیونکہ اس کا رازق وہ ہے جو سب سے بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔
یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا تھا۔ مہاجرین سابقین نے نصرت دین کی خاطر اپنا گھر بار، اولاد اور مال چھوڑ دیا تو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت سے شہر فتح کروائے، انھیں لوگوں پر اقتدار و اختیار عطا کیا تو انھوں نے ان شہروں سے مال حاصل کیا اور اس مال کے ذریعے سے سب سے دولت مند ہوگئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه بشارةٌ كبرى لمن هاجر في سبيل الله، فخرج من دارِهِ ووطنِهِ وأولادِهِ ومالِهِ ابتغاءَ وجه الله ونصرةً لدين الله؛ فهذا قد وجب أجرُهُ على الله؛ سواءً مات على فراشِهِ أو قُتِلَ مجاهداً في سبيل الله. {لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللهُ رزقاً حسناً}: في البرزخ وفي يوم القيامة ؛ بدخول الجنَّة الجامعة للرَّوْح والرَّيْحان والحُسْن والإحسان ونعيم القلب والبدن، ويُحْتَمَلُ أنَّ المراد أنَّ المهاجر في سبيل الله قد تكفَّلَ الله برزقِهِ في الدُّنيا رزقاً واسعاً حسناً، سواء علم الله منه أنه يموتُ على فراشه أو يُقْتَلُ شهيداً؛ فكلُّهم مضمونٌ له الرزق؛ فلا يتَوَهَّم أنه إذا خرج من دياره وأمواله سيفتقرُ ويحتاج؛ فإنَّ رازِقَه هو خير الرازقين. وقد وقع كما أخبر؛ فإنَّ المهاجرين السابقين تركوا ديارهم وأبناءهم وأموالهم نُصْرَةً لدين الله، فلم يَلْبَثوا إلاَّ يسيراً حتى فتحَ الله عليهم البلادَ، ومكَّنهم من العباد، فاجْتَبوا من أموالها ما كانوا به من أغنى الناس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔