تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۹) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ (1) وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ (2) مانگے بغیر دیتا ہے۔ (3) بے حساب دیتا ہے۔ (4) کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ (5) اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں {” خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ “} کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔
انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔
اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169]، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔
ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔
یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه بشارةٌ كبرى لمن هاجر في سبيل الله، فخرج من دارِهِ ووطنِهِ وأولادِهِ ومالِهِ ابتغاءَ وجه الله ونصرةً لدين الله؛ فهذا قد وجب أجرُهُ على الله؛ سواءً مات على فراشِهِ أو قُتِلَ مجاهداً في سبيل الله. {لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللهُ رزقاً حسناً}: في البرزخ وفي يوم القيامة ؛ بدخول الجنَّة الجامعة للرَّوْح والرَّيْحان والحُسْن والإحسان ونعيم القلب والبدن، ويُحْتَمَلُ أنَّ المراد أنَّ المهاجر في سبيل الله قد تكفَّلَ الله برزقِهِ في الدُّنيا رزقاً واسعاً حسناً، سواء علم الله منه أنه يموتُ على فراشه أو يُقْتَلُ شهيداً؛ فكلُّهم مضمونٌ له الرزق؛ فلا يتَوَهَّم أنه إذا خرج من دياره وأمواله سيفتقرُ ويحتاج؛ فإنَّ رازِقَه هو خير الرازقين. وقد وقع كما أخبر؛ فإنَّ المهاجرين السابقين تركوا ديارهم وأبناءهم وأموالهم نُصْرَةً لدين الله، فلم يَلْبَثوا إلاَّ يسيراً حتى فتحَ الله عليهم البلادَ، ومكَّنهم من العباد، فاجْتَبوا من أموالها ما كانوا به من أغنى الناس.