تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 42

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾
اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو بے شک ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود نے جھٹلایا۔ En
اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد وثمود بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں
En
اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ﺛمود En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوْدُ۰۰وَقَوْمُ اِبْرٰؔهِیْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ ۰۰ وَّاَصْحٰؔبُ مَدْیَنَ وَؔكُذِّبَ مُوْسٰؔى بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ علیہ السلام کی بھی تکذیب کی گئی۔ ﴿ فَاَمْلَیْتُ لِلْ٘كٰفِرِیْنَ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَیْفَ كَانَ نَؔكِیْرِ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: وإنْ يكذِّبْك هؤلاء المشركون؛ فلستَ بأوَّل رسول كُذِّب، وليسوا بأول أمةٍ كَذَّبَت رسولها؛ {فقد كَذَّبَتْ قبلَهم قومُ نوح وعادٌ وثمودُ. وقومُ إبراهيم (وقومُ لوط). وأصحابُ مَدْيَنَ}؛ أي: قوم شعيب. {وكُذِّبَ موسى فأمليتُ للكافرين}: المكذِّبين، فلم أعاجِلْهم بالعقوبة، بل أمهلتُهم حتى استمرُّوا في طغيانهم يعمهونَ وفي كفرِهِم وشرِّهم يزدادون، {ثمَّ أخَذْتُهم}: بالعذاب أخذَ عزيز مقتدرٍ. {فكيف كان نَكيرِ}؛ أي: إنكاري عليهم كفرهم وتكذيبهم كيف حالُه؟! كان أشدَّ العقوبات وأفظعَ المَثُلات؛ فمنهم من أغرقَه، ومنهم من أخذَتْه الصيحةُ، ومنهم من أُهْلِكَ بالريح العقيم، ومنهم من خُسِفَ به الأرض، ومنهم من أُرْسِلَ عليه عذابُ يوم الظُّلَّة؛ فليعتبِرْ بهم هؤلاء المكذِّبون أن يصيبَهم ما أصابهم؛ فإنَّهم ليسوا خيراً منهم، ولا كُتِبَ لهم براءةٌ في الكتب المنزَّلة من الله. وكم من المعذَّبين المهلكين أمثال هؤلاء كثير!