تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 25

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلۡنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَۨ الۡعَاکِفُ فِیۡہِ وَ الۡبَادِ ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے اور اس حرمت والی مسجد سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔ En
جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں۔ خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے۔ اور جو اس میں شرارت سے کج روی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
En
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں، جو بھی ﻇلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی برائی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، لوگوں کو ایمان لانے سے منع کیا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکا، جو ان کی ملکیت ہے نہ ان کے باپ دادا کی۔ بلکہ مسجد حرام مقیم اور دور سے زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے برابر ہے۔ بلکہ انھوں نے مخلوق میں افضل ترین ہستی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا، حالانکہ مسجد حرام کا احترام، حرمت اور عظمت یہ ہے کہ جو کوئی اس مسجد میں الحاد اور ظلم کا ارادہ کرتا ہے، ہم اسے درد ناک عذاب کا مزا چکھاتے ہیں۔پس حرم میں مجرد ظلم اور الحاد کا ارادہ ہی عذاب کا موجب ہے، حالانکہ دیگر گناہوں میں بندے کو صرف اس وقت سزا ملتی ہے جب وہ اپنے ارادۂ گناہ پر عمل کرتا ہے۔ تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جو مسجد میں سب سے بڑے گناہ یعنی کفر اور شرک کا ارتکاب کرتا ہے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور زیارت کا ارادہ رکھنے والوں کو مسجد حرام سے روکتا ہے۔ تمھارا کیا خیال ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
اس آیت کریمہ میں حرم کے احترام اور اس کی شدت تعظیم کے وجوب کا اور اس کے اندر ارادۂ معصیت اور اس کے ارتکاب سے بچنے کی تاکید کا اثبات ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن شناعةِ ما عليه المشركون الكافرون بربِّهم، وأنَّهم جَمَعوا بين الكفر بالله ورسلِهِ، وبين الصدِّ عن سبيل الله، ومَنْع الناس من الإيمان، والصدِّ أيضاً عن المسجد الحرام الذي ليس ملكاً لهم ولا لآبائهم، بل الناس فيه سواءٌ المقيمُ فيه والطارئ إليه، بل صدُّوا عنه أفضل الخلق محمداً وأصحابه، والحالُ أنَّ المسجد الحرام من حرمتِهِ واحترامه وعظمتِهِ أنَّ {مَن يُرِدْ فيه بإلحادٍ بظُلْم نُذِقْهُ من عذابٍ أليم}؛ فمجرَّد الإرادة للظُّلم والإلحاد في الحرم موجبٌ للعذاب، وإنْ كان غيرُهُ لا يعاقَب العبدُ إلاَّ بعمل الظُّلم؛ فكيف بمن أتى فيه أعظمَ الظُّلم من الكفر والشرك والصدِّ عن سبيله ومنع من يريدُهُ بزيارةٍ؟! فما ظنُّهم أن يفعلَ الله بهم؟!

وفي هذه الآية الكريمة وجوبُ احترام الحرم وشدَّة تعظيمه والتحذير من إرادة المعاصي فيه وفعلها.