تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 95

وَ حَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور لازم ہے اس بستی پر جسے ہم ہلاک کر دیں کہ وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ En
اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے
En
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر ﻻزم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان بستیوں کا، جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں، پس ان کے لیے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لیے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں … مباداکہ یہ اعمال انھیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہو گا، اس لیے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آ جانا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يمتنعُ على القُرى المُهْلَكَة المعذَّبة الرُّجوع إلى الدُّنيا ليستدرِكوا ما فَرَّطوا فيه؛ فلا سبيلَ إلى الرجوع لمن أُهْلِكَ وعذِّب، فليحذرِ المخاطبون أن يستمرُّوا على ما يوجب الإهلاك، فيقع بهم، فلا يمكن رفعهُ، وليقلِعوا وقتَ الإمكان والإدراك.