تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 94

فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾
پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقینا ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔ En
جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں
En
پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وه مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤْمِنٌ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْن یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فصَّل جزاءه فيهم منطوقاً ومفهوماً، فقال: {فَمَن يعملْ من الصالحاتِ}؛ أي: الأعمال التي شرعَتْها الرسلُ وحَثَّتْ عليها الكتب، {وهو مؤمنٌ}: بالله وبرسله وما جاؤوا به، {فلا كفرانَ لسعيِهِ}؛ أي: لا نضيع سَعْيَهُ ولا نبطِلُه، بل نضاعِفُه له أضعافاً كثيرةً. {وإنَّا له كاتبونَ}؛ أي: مثبتون له في اللوح المحفوظ وفي الصُّحف التي مع الحفظة؛ أي: ومن لم يَعْمَلْ من الصالحات أو عَمِلَها وهو ليس بمؤمن؛ فإنَّه محرومٌ خاسرٌ في دينه ودنياه.