تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 87

وَ ذَاالنُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾
اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔ En
اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں
En
مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا۔پس جب ان پر عذاب آیا اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوْلَا كَانَتْ قَ٘رْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُ٘سَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ (یونس:10؍98) کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لیے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔ اور فرمایا: ﴿وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ۰۰فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ (الصافات:37؍147، 148) اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس علیہ السلام پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس علیہ السلام، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ۰۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ۰۰فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِیْمٌ (الصافات:37؍140۔142) جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔
ظاہری طورپر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ ہونا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کر سکتا یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو… پس یونس علیہ السلام بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے… اور انھوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس علیہ السلام کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ لَّاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّیْؔ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔
پس حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوْلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ۠ۙ۰۰لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (الصافات:37؍143، 144) اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔
اسی لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَنَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نُـْۨجِي الْمُؤْمِنِیْنَ اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہو جائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكرْ عبدَنا ورسولَنا {ذَا النُّونِ}، وهو يونُس؛ أي: صاحب النون، وهي الحوت، بالذكر الجميل والثناء الحسن؛ فإنَّ الله تعالى أرسله إلى قومه، فدعاهم، فلم يؤمنوا، فوعدهم بنزول العذاب بأمدٍ سمَّاه لهم، فجاءهم العذابُ، ورأوه عِياناً، فعَجُّوا إلى الله وضجُّوا وتابوا، فرفع الله عنهم العذاب؛ كما قال تعالى: {فلولا كانت قريةٌ آمنتْ فَنَفَعَها إيمانُها إلاَّ قومَ يونُسَ لما آمنوا كَشَفْنا عنهم عذابَ الخِزْي في الحياة الدنيا ومتَّعْناهم إلى حين}، وقال: {وأرسَلْناه إلى مائةِ ألفٍ أو يزيدونَ. فآمَنوا فَمَتَّعْناهم إلى حينٍ}. وهذه الأمَّة العظيمة الذين آمنوا بدعوة يونس من أكبر فضائله، ولكنه عليه الصلاة والسلام ذَهَبَ مغاضِباً وأبَقَ عن ربِّه لذنبٍ من الذُّنوب التي لم يَذْكُرها الله لنا في كتابه ولا حاجة لنا إلى تعيينها؛ لقوله: {إذْ أبَقَ إلى الفُلْكِ ... وهو مليمٌ}؛ أي: فاعلٌ ما يُلام عليه، [والظاهر أن عجلته ومغاضبته لقومه وخروجه من بين أظهرهم قبل أن يأمره اللَّه بذلك]. وظنَّ أنَّ الله لا يقدر عليه؛ أي: يضيِّق عليه في بطن الحوت، أو ظنَّ أنَّه سيفوتُ الله تعالى، ولا مانع من عُروض هذا الظنِّ للكمَّل من الخلق على وجهٍ لا يستقرُّ ولا يستمرُّ عليه، فركب في السفينة مع أناس، فاقْتَرَعوا مَنْ يُلقون منهم في البحر لما خافوا الغرق إن بَقُوا كلُّهم، فأصابت القرعةُ يونس، فالتقمه الحوتُ، وذهب فيه إلى ظلمات البحار، فنادى في تلك الظلمات: {لا إله إلا أنتَ سبحانَكَ إني كنتُ من الظالمينَ}، فأقرَّ لله تعالى بكمال الألوهيَّة، ونزَّهه عن كل نقص وعيبٍ وآفةٍ، واعترفَ بظلم نفسِهِ وجنايتِهِ؛ قال الله تعالى: {فَلَوْلا أنَّه كان من المسبِّحين. لَلَبِثَ في بطنِهِ إلى يوم يبعثون}، ولهذا قال هنا: {فاستَجَبْنا له ونَجَّيْناه من الغمِّ}؛ أي: الشدَّة التي وقع فيها، {وكذلك نُنْجي المؤمنينَ}: وهذا وعدٌ وبشارةٌ لكلِّ مؤمن وقع في شدَّة وغمٍّ: أنَّ الله تعالى سَيُنجيه منها ويكشِفُ عنه، ويخفِّفُ لإيمانِهِ؛ كما فعل بيونس عليه السلام.