تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 79

فَفَہَّمۡنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ کُلًّا اٰتَیۡنَا حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ۫ وَّ سَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ یُسَبِّحۡنَ وَ الطَّیۡرَ ؕ وَ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۷۹﴾
تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کومسخر کر دیا، جو تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور ہم ہی کرنے والے تھے۔ En
تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے
En
ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم وعلم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی۔ ہم کرنے والے ہی تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَ٘یْمٰنَ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد علیہ السلام کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا اور ہر ایک کو۔ یعنی داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو ﴿ اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا دیا ہم نے حکم اور علم۔ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔
یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں۔
پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد علیہ السلام سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا: ﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِیْ٘نَ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ففهَّمْناها سليمان}؛ أي: فهَّمناه هذه القضية، ولا يدلُّ ذلك أن داود لم يُفَهِّمْه الله في غيرها، ولهذا خصَّها بالذكر؛ بدليل قوله: {وكلًّا}: من داود وسليمان آتيناهما {حكماً وعلماً}: وهذا دليلٌ على أن الحاكم قد يصيب الحقَّ والصواب، وقد يخطئ ذلك، وليس بملوم إذا أخطأ مع بذل اجتهاده.

ثم ذكر ما خصَّ به كلًّا منهما، فقال: {وسخَّرْنا مع داود الجبالَ يُسَبِّحْنَ والطيرَ}: وذلك أنَّه كان من أعبد الناس وأكثرهم لله ذكراً وتسبيحاً وتمجيداً، وكان قد أعطاه اللهُ من حسن الصوت ورِقَّته ورخامتِهِ ما لم يؤتِهِ أحداً من الخلق، فكان إذا سبَّح وأثنى على الله؛ جاوبتْه الجبالُ الصمُّ والطيورُ البهم، وهذا فضلُ اللَّه عليه وإحسانه، ولهذا قال: {وكنا فاعلين}.