تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَ کُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾
اور داؤد اور سلیمان کو، جب وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے، جب اس میں لوگوں کی بکریاں رات چر گئیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔ En
اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے
En
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وه کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد علیہما السلام کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذْ یَحْكُ٘مٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان علیہ السلام نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكر هذين النبيين [الكريمين] داود وسليمان مثنياً مبجِّلاً؛ إذْ آتاهما الله العلم الواسع والحكم بين العباد؛ بدليل قوله: {إذْ يحكُمانِ في الحَرْثِ إذْ نَفَشَتْ فيه غَنَمُ القوم}؛ أي: إذ تحاكم إليهما صاحبُ حرثٍ نفشت فيه غنم القوم الأخرى؛ أي: رعتْ ليلاً، فأكلتْ ما في أشجارِهِ ورعتْ زرعه، فقضى فيه داود عليه السلام بأنَّ الغنم تكون لصاحب الحَرْث؛ نظراً إلى تفريط أصحابها، فعاقبهم بهذه العقوبة، وحكم فيها سليمانُ بحكم موافقٍ للصواب؛ بأنَّ أصحاب الغنم يدفعونَ غَنَمَهم إلى صاحب الحرث، فينتفع بدرِّها وصوفها، ويقومون على بستان صاحب الحرثِ حتَّى يعودَ إلى حاله الأولى؛ فإذا عاد إلى حاله؛ ترادّا، ورَجَعَ كلٌّ منهما بماله، وكان هذا من كمال فهمه وفطنته عليه السلام.