تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 49

الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ ہُمۡ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔ En
جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں
En
وه لوگ جو اپنے رب سے بن دیکھے خوف کھاتے ہیں اور قیامت (کے تصور) سے کانپتے رہتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے متقین کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔
یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّر المتقين فقال: {الذين يَخْشَوْنَ ربَّهم بالغيب}؛ أي: يخشونه في حال غيبتهم وعدم مشاهدةِ الناس لهم؛ فمع المشاهدة أولى، فيتورَّعون عمَّا حَرَّم، ويقومون بما ألزم. {وهم من الساعةِ مشفِقونَ}؛ أي: خائفون وَجِلون؛ لكمال معرفتهم بربِّهم، فجمعوا بين الإحسان والخوف، والعطف هنا من باب عطف الصفات المتغايراتِ الواردة على شيءٍ واحدٍ وموصوف واحدٍ.