تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اصلاً اور حضرت ہارون علیہ السلام کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الْ٘فُرْقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِیَآءً ﴾ نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔
﴿ وَّذِكْرًالِّلْ٘مُتَّقِیْنَ۠﴾”اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔“ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ”ذکر“ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كثيراً ما يَجْمَعُ تعالى بين هذين الكتابين الجليلين اللَّذين لم يَطْرُق العالم أفضلُ منهما ولا أعظمُ ذكراً ولا أبركُ ولا أعظمُ هدىً وبياناً، وهما التوراة والقرآن، فأخبر أنَّه آتى موسى أصلاً وهارون تَبَعاً الفرقان، وهو التوراة الفارقة بين الحقِّ والباطل والهدى والضَّلال، وأنها {ضياء}؛ أي: نورٌ يهتدي به المهتدون، ويأتمُّ به السالكون، وتُعْرَفُ به الأحكام، ويميَّز به بين الحلال والحرام، وينير في ظُلمة الجهل والبدع والغواية وذكراً للمتَّقين؛ يتذكَّرون به ما ينفعهم وما يضرُّهم، ويتذكَّر به الخيرَ والشرَّ، وخصَّ المتَّقين بالذِّكر، لأنَّهم المنتفعون بذلك علماً وعملاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔