تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 20

یُسَبِّحُوۡنَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ لَا یَفۡتُرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔ En
رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
En
وه دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يسبِّحون الليل والنهار لا يفتُرون}؛ أي: مستغرِقين في العبادة والتسبيح في جميع أوقاتهم، فليس في أوقاتهم وقتٌ فارغٌ ولا خالٍ منها، وهم على كثرتِهِم بهذه الصفة.

وفي هذا من بيان عظمتِهِ وجلالة سلطانِهِ وكمال علمِهِ وحكمته ما يوجبُ أن لا يُعْبَدَ إلاَّ هو، ولا تُصْرَفَ العبادةُ لغيره.