تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 19

وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ لَا یَسۡتَحۡسِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۹﴾
اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ زرہ برابر تھکتے ہیں۔ En
اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
En
آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں۔
بناء بریں فرمایا: ﴿ وَمَنْ عِنْدَهٗ اور جو اس کے پاس ہیں۔ یعنی فرشتے ﴿ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْنَ۠ وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں۔ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر أنَّه له ملك السماواتِ والأرض وما بينهما؛ فالكل عبيده ومماليكه، فليس لأحدٍ منهم ملكٌ ولا قسطٌ من الملك ولا معاونةٌ عليه، ولا يشفعُ إلاَّ بإذن الله؛ فكيف يتَّخذ من هؤلاء آلهة؟! وكيف يُجعل لله منها ولد؟! فتعالى وتقدَّس المالك العظيم الذي خضعت له الرقاب، وذلَّت له الصعاب، وخشعت له الملائكة المقرَّبون، وأذعنوا له بالعبادة الدَّائمة المستمرة أجمعون؛ ولهذا قال: {ومن عنده}؛ أي: [من] الملائكة، {لا يَسْتَكْبِرونَ عن عبادتِهِ ولا يستحسرونَ}؛ أي: لا يملُّون، ولا يسأمون لشدَّة رغبتهم وكمال محبَّتهم وقوَّة أبدانهم.