تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 2

مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحۡدَثٍ اِلَّا اسۡتَمَعُوۡہُ وَ ہُمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو مگر وہ اسے مشکل سے سنتے ہیں اور وہ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ En
ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں
En
ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وه کھیل کود میں ہی سنتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ مَا یَ٘اْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّؔحْدَثٍ نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمْ یَلْعَبُوْنَ
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ما يأتيهم من ذكرٍ من ربِّهم محدَثٍ}: يذكِّرهم ما ينفعهم ويحثُّهم عليه، وما يضرهم ويرهبهم منه. {إلاَّ استمعوهُ}: سماعاً تقوم عليهم به الحجَّة، {وهم يلعبونَ}.