تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿ مَایَ٘اْتِیْهِمْمِّنْذِكْرٍمِّنْرَّبِّهِمْمُّؔحْدَثٍ ﴾”نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔“ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّااسْتَمَعُوْهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمْیَلْعَبُوْنَ﴾
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {ما يأتيهم من ذكرٍ من ربِّهم محدَثٍ}: يذكِّرهم ما ينفعهم ويحثُّهم عليه، وما يضرهم ويرهبهم منه. {إلاَّ استمعوهُ}: سماعاً تقوم عليهم به الحجَّة، {وهم يلعبونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔