تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 1

اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مُّعۡرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔ En
لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں
En
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تعجُّبٌ من حالة الناس، وأنَّهم لا يَنْجَعُ فيهم تذكيرٌ، ولا يَرْعَوونَ إلى نذيرٍ، وأنَّهم قد قرب حسابهم ومجازاتهم على أعمالهم الصالحة والطالحة، والحال أنهم {في غفلةٍ معرضون}؛ أي: غفلة عمَّا خُلِقوا له، وإعراض عما زُجِروا به، كأنَّهم للدُّنيا خُلقوا، وللتمتُّع بها ولدوا، وأنَّ الله تعالى لا يزال يجدِّد لهم التَّذكير والوعظ، ولا يزالون في غفلتهم وإعراضهم.