تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 95

قَالَ فَمَا خَطۡبُکَ یٰسَامِرِیُّ ﴿۹۵﴾
کہا تو اے سامری! تیرا معاملہ کیا ہے؟ En
پھر (سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔ یعنی وہ جبریل علیہ السلام تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ما شأنُك يا سامريُّ حيثُ فعلتَ ما فعلتَ؟ فقال: {بَصُرْتُ بما لم يَبْصُروا به}: وهو جبريلُ عليه السلام على فرسٍ، رآه وقتَ خروجهم من البحر وغرِق فرعون وجنوده على ما قاله المفسرون، {فقبضتُ قبضةً من أثر} حافر فرسِهِ، فنبذتُها على العجل، {وكذلك سَوَّلَتْ لي نفسي}: أنْ أقبِضَها ثمَّ أنبِذَها، فكان ما كان.