تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 94

قَالَ یَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡیَتِیۡ وَ لَا بِرَاۡسِیۡ ۚ اِنِّیۡ خَشِیۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَیۡنَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ لَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِیۡ ﴿۹۴﴾
اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر، میں تو اس سے ڈرا کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔ En
کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا
En
ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہارون علیہ السلام نے کہا: ﴿ یَبْنَؤُمَّ اے میرے ماں جائے انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغْ٘فِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖٞ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰؔحِمِیْنَ (الاعراف:7؍151) اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال هارون: {يا ابن أمَّ}: ترقيقٌ له، وإلاَّ فهو شقيقه. {لا تأخُذْ بلحيتي ولا برأسي إني خشيتُ أن تقولَ فرَّقتَ بين بني إسرائيلَ ولم تَرْقُبْ قَوْلي}: فإنَّك أمرتني أن أخْلُفَكَ فيهم؛ فلو تبعتُك؛ لتركتُ ما أمرتَني بلزومِهِ، وخشيتُ لائمَتَكَ، وأن تقول: فرَّقْتَ بين بني إسرائيل؛ حيث تركتَهم وليس عندَهم راعٍ ولا خليفةٌ؛ فإنَّ هذا يفرِّقُهم، ويشتِّت شملَهم؛ فلا تَجْعَلْني مع القوم الظالمين، ولا تشمِّتْ فينا الأعداء. فندم موسى على ما صَنَعَ بأخيه وهو غير مستحقٍّ لذلك، فقال: {ربِّ اغفِرْ لي ولأخي وأدْخِلْنا في رحمتِكَ وأنت أرحم الراحمين}.