تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدْعَمِلَالصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَلَهُمُالدَّرَجٰؔتُالْ٘عُ٘لٰى ﴾”تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔“ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں، بہتی ہوئی نہریں، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُامَنْتَزَؔكّٰى ﴾ اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔
”تزکیہ“ کے دو معنیٰ ہیں۔
(۱) صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا۔
(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔
زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن يأت ربَّه مؤمناً به، مصدقاً لرسله، متَّبعاً لكتبه، قد عمل الصالحات الواجبة والمستحبَّة؛ {فأولئك لهم الدرجات العلى}؛ أي: المنازل العاليات في الغرف المزخرفات، واللَّذَّات المتواصلات، والأنهار السارحات، والخلود الدائم، والسرور العظيم، فيما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر. و {ذلك}: الثواب {جزاء من تزكَّى}؛ أي: تطَهَّر من الشرك والكفر والفسوق والعصيان: إما أنْ لا يفعَلَها بالكلِّية، أو يتوب مما فعله منها، وزكَّى أيضاً نفسه، ونمَّاها بالإيمان والعمل الصالح؛ فإنَّ للتزكية معنيين: التنقية، وإزالة الخبث، والزيادة بحصول الخير، وسمِّيت الزكاة زكاة لهذين الأمرين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔