تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخْسَـُٔوْافِیْهَاوَلَاتُكَلِّمُوْنِ ﴾ (المؤمنون:23؍108) ”دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّ مَن أتاه وقَدِم عليه مجرماً ـ أيْ: وصفه الجرم من كل وجهٍ، وذلك يستلزم الكفر ـ واستمرَّ على ذلك حتى مات؛ فإنَّ له نار جهنم الشديد نَكالها، العظيمة أغلالها، البعيد قعرها، الأليم حرها وقرها، التي فيها من العقاب ما يُذيب الأكباد والقلوب، ومن شدَّة ذلك أنَّ المعذَّب فيها لا يموت ولا يحيا، لا يموت فيستريح ولا يحيا حياة يتلذَّذ بها، وإنَّما حياته محشوَّة بعذاب القلب والروح والبدن، الذي لا يُقَدَّر قَدْرُه ولا يُفَتَّر عنه ساعة؛ يستغيثُ فلا يُغاث، ويدعو فلا يُستجاب له؛ نعم؛ إذا استغاث؛ أُغيث بماء كالمهل يشوي الوجوه، وإذا دعا؛ أجيب: بأخسؤوا فيها، ولا تكلمون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔