تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذْهَبْاَنْتَوَاَخُوْكَ ﴾”جا تو اور تیرا بھائی۔“ یعنی ہارون علیہ السلام ﴿بِاٰیٰتِیْ﴾”میری نشانیوں کے ساتھ۔“ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں۔ ﴿ وَلَاتَنِیَافِیْذِكْرِیْ﴾”اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔“ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَیْنُسَبِّحَكَكَثِیْرًاۙ۰۰وَّنَذْكُرَكَكَثِیْرًا ﴾ (طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما امتنَّ اللهّ على موسى بما امتنَّ به من النعم الدينيَّة والدنيويَّة؛ قال له: {اذهب أنت وأخوك}: هارون {بآياتي}؛ أي: الآيات التي مني، الدالَّة على الحقِّ وحسنه وقبح الباطل؛ كاليد والعصا ونحوها؛ في تسع آياتٍ إلى فرعون وملئهِ، {ولا تَنِيا في ذِكْري}؛ أي: لا تفترا ولا تكسلا عن مداومة ذِكْري بالاستمرار عليه والْزَماه كما وعدتُما بذلك: {كي نسبِّحَكَ كثيراً ونَذْكُرَكَ كثيراً}؛ فإنَّ ذكر الله فيه معونةٌ على جميع الأمور؛ يسهِّلها، ويخفِّف حملها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔